You are Not so Smart !
کیا آپ واقعی اتنے "سمارٹ" ہیں جتنا آپ خود کو سمجھتے ہیں؟
کیا آپ اپنے رویوں کی اصل وجوہات جانتے ہیں؟
کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ جو کچھ کرتے ہیں، وہ درحقیقت کیوں کرتے ہیں؟
اگر آپ کا جواب "نہیں" ہے، تو یہ تحریر خاص طور پر آپ کے لیے ہے۔
Lessons From Bestselling Book You Are Not So Smart By David Mcraney
قسط نمبر 1
ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کے فیصلے منطقی، معقول اور سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ لیکن ڈیوڈ مک رینی کی یہ کتاب ہمیں ایک بالکل مختلف حقیقت سے روشناس کراتی ہے: ہم انسان اکثر غیر منطقی ہوتے ہیں، اور اپنی ذہنی دنیا کو دھوکہ دینے میں ماہر ہیں۔
خود کو دھوکہ دینے کی حیرت انگیز حقیقت
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ کی یادداشت کتنی ناقابلِ بھروسہ ہو سکتی ہے؟ یا آپ کے خیالات اکثر صرف وہی باتیں قبول کرتے ہیں جو آپ کے پہلے سے موجود عقائد کی تصدیق کریں؟ یہ کتاب ان دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرتی ہے اور نفسیات کی تحقیق سے ثابت کرتی ہے کہ ہم اکثر اپنے ذہن کے ساتھ کھیل کھیلتے ہیں۔
ڈیوڈ مک رینی نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ ہم کیسے خود کو بے وقوف بناتے ہیں اور یہ فریب نہ صرف ہمیں، بلکہ ہمارے ارد گرد کے لوگوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ کتاب کے آغاز میں، مصنف یہ وعدہ کرتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی کے کچھ دلچسپ اور گہرے پہلوؤں کو بالکل نئے زاویے سے دیکھنے کے قابل ہو جائیں گے۔
آپ اتنے سمجھدار نہیں جتنا آپ سمجھتے ہیں
کتاب کا مرکزی خیال یہی ہے کہ ہم انسان اپنی عقل و شعور کو اکثر زیادہ سمجھتے ہیں۔ چاہے وہ ہماری یادداشت ہو، ہمارے فیصلے ہوں یا ہماری سچائی کو پرکھنے کی صلاحیت – یہ سب ہماری توقع سے کہیں زیادہ ناقص اور تعصبات سے بھری ہوئی ہیں۔
ایک نظر میں کتاب
یہ کتاب جدید نفسیاتی تحقیق، دلچسپ کہانیوں، اور غیر متوقع حقائق کا مجموعہ ہے۔ مصنف کا مقصد صرف یہ نہیں کہ آپ کو اپنی کمزوریوں کے بارے میں بتائیں، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان خامیوں کو سمجھ کر بہتر فیصلے کریں اور اپنی زندگی میں زیادہ حقیقت پسندی لائیں۔
یہ کتاب ایک آئینہ ہے جو آپ کو آپ کی ذہنی دنیا کا حقیقی عکس دکھاتی ہے – اور یہ عکس شاید اتنا خوبصورت نہ ہو جتنا آپ سوچتے ہیں، لیکن یہ آپ کو بہتر انسان بننے کا موقع ضرور دے گا۔
کتاب You Are Not So Smart کی سمری
ہم انسانوں میں ایک عجیب رجحان پایا جاتا ہے: ہم بے ترتیب (random) حالات میں معنی ڈھونڈتے ہیں اور خود کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان پر قابو رکھ سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری سوچ حقیقت پسندی سے کوسوں دور ہے۔
اتفاقات میں ترتیب تلاش کرنے کی خواہش
The Desire to Find Order in Randomness
ہم محض دنیا کے غیر جانبدار مشاہدہ کرنے والے نہیں ہیں، بلکہ ہم مسلسل خود کو دھوکا دیتے ہیں تاکہ بے ترتیب واقعات اور عجیب اتفاقات کو کسی ترتیب میں ڈھال سکیں۔
یہ عادت ہماری ارتقائی تاریخ میں گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے۔ قدیم انسان کے لیے *pattern recognition* زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اسے یہ سمجھنے کے لیے کہ کون سا پودا کھانے کے قابل ہے، یا دشمن اور شکاری کو دوست اور شکار سے الگ کرنے کے لیے، ماحول میں موجود نشانات اور ترتیبوں کو پہچاننا ضروری تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی شور اور بے ترتیبی میں ترتیب تلاش کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ اس عادت کو روکنے کے قابل نہیں ہے، اور اس کے نتیجے میں ہم وہاں بھی ترتیب دیکھتے ہیں جہاں وہ موجود نہیں ہوتی۔
اتفاقات میں معنی تلاش کرنے کا رجحان
The Tendency to Find Meaning in Random Events
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ایک خاص نمبر، مثلاً "سات"، آپ کی زندگی میں بار بار نمودار ہو رہا ہے؟ یا اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ آپ کے بلائنڈ ڈیٹ کی ماں کا نام آپ کی ماں کے نام جیسا ہے، تو کیا آپ ایک لمحے کے لیے سوچتے ہیں کہ یہ کوئی خاص اشارہ ہو سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ نمبر "سات" اتنا ہی عام ہے جتنا باقی نمبر، اور دنیا میں بے شمار خواتین کا نام آپ کی ماں کے نام جیسا ہو سکتا ہے۔ یہ سب محض اتفاقات ہیں۔ لیکن ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں، اور ہم ہمیشہ معنی تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
کنٹرول کا مغالطہ
The Illusion of Control
صرف اتفاقات میں معنی تلاش کرنا ہی نہیں، ہم خود کو یہ بھی یقین دلاتے ہیں کہ ہم بے ترتیب واقعات کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر آپ کسی ڈائس کو رول کریں، تو جو نمبر سامنے آئے گا وہ مکمل طور پر بے ترتیب ہوگا۔ لیکن تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جو شخص زیادہ طاقتور محسوس کرتا ہے، وہ خود کو یقین دلائے گا کہ وہ اگلے نمبر کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔
اسی طرح، ہم اکثر ایسے "جادوئی" خیالات میں مبتلا ہوتے ہیں جو بے ترتیبی پر قابو پانے کا وہم دیتے ہیں۔ جیسے، اگر ہم کسی خواہش کے لیے انگلیاں کراس کریں، تو ہمیں لگتا ہے کہ اس خواہش کے پورا ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
دماغ کی تشکیل: معنی اور کنٹرول کی طلب
The Brain’s Need for Meaning and Control
یہ عادات ہماری سوچ کے گہرے اور ناقابلِ بدلاؤ حصے ہیں۔ ہمارا دماغ ترتیب، معنی اور کنٹرول چاہتا ہے، چاہے حقیقت کچھ بھی ہو۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے فیصلے اور جذبات مکمل طور پر منطقی اور سمجھدار ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر ان کی وضاحت کے لیے کہانیاں گھڑ لیتے ہیں، اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
فیصلوں اور جذبات کی غیر حقیقی وضاحت
The Unrealistic Justification of Decisions and Emotions
کیا آپ کا کوئی پسندیدہ گانا یا فلم ہے؟ ذرا سوچیں، آپ اسے کیوں پسند کرتے ہیں؟ آپ شاید فوراً کوئی وضاحت پیش کریں گے، جیسے "گانے کے بول بہت خوبصورت ہیں" یا "فلم کا پلاٹ شاندار تھا۔"
لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ جو وضاحت ہم پیش کرتے ہیں، وہ زیادہ تر تخیلاتی ہوتی ہے۔ ہم اپنے احساسات اور فیصلوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن درحقیقت، ہم کہانیاں بنا رہے ہوتے ہیں۔
یہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ کے عمل (thought processes) سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے۔ ہماری دماغی سرگرمیاں ہمارے شعور کے پیچھے کام کرتی رہتی ہیں، اور ہمیں صرف ان کا ہلکا سا احساس ہوتا ہے۔
یادداشت اور فکشن کی آمیزش
The Blending of Memory and Fiction
جب ہم اپنے ماضی کے کسی واقعے کو یاد کرتے ہیں، تو ہم اس کے صرف کچھ حصے یا تفصیلات ہی یاد کرتے ہیں۔ باقی خلا کو ہمارا دماغ خود بھر دیتا ہے، اکثر فرضی معلومات سے، تاکہ ہماری یادداشت مکمل اور تسلسل میں نظر آئے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ہم کوئی کہانی بار بار سناتے ہیں، تو وہ ہر بار تھوڑی مختلف ہوتی ہے، اور کبھی کبھار پہلی بار کی کہانی سے متضاد بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن ہم ان فرضی اضافوں کو پہچان نہیں پاتے کیونکہ ہمارا دماغ انہیں حقیقی سمجھتا ہے۔
ایک دلچسپ تجربہ
An Interesting Experiment
ایک تحقیق کے دوران، ایک اسٹور میں نائلون کے موزے (nylon stockings) کی قطار رکھی گئی اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ صرف دیکھ کر ان کے معیار کی درجہ بندی کریں۔ حیران کن طور پر، زیادہ تر افراد نے دائیں طرف کے موزے کو بہترین قرار دیا، حالانکہ تمام موزے ایک جیسے تھے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ انتخاب کیوں کیا، تو ان کے جوابات میں "موزے کی ساخت" یا "ٹیکسچر" جیسی وضاحتیں شامل تھیں، لیکن کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ موزے کی پوزیشن نے ان کے فیصلے پر اثر ڈالا تھا۔
حتیٰ کہ جب ان سے سیدھا پوچھا گیا کہ کیا پوزیشن نے ان کے انتخاب کو متاثر کیا، تو سب نے یقین سے انکار کر دیا۔
فیصلوں میں تخلیقی بہانے
Creative Excuses in Decision-Making
یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ ہم اکثر اپنے فیصلے کے حقیقی سبب سے بے خبر ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی ہم انہیں جواز فراہم کرنے کے لیے تخلیقی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں۔ ہمارا دماغ اس لاعلمی کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ فوری طور پر ایک وضاحت پیدا کر کے ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہماری یادداشت اور فیصلے اکثر غیر حقیقی اضافوں سے بھرے ہوتے ہیں، ان پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہماری زندگی کے کئی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ایک گہری بصیرت فراہم کرتی ہے۔
ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری آراء کئی سالوں کی منطقی سوچ اور تجزیے کا نتیجہ ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ آراء کبھی بھی مکمل طور پر منطقی یا معروضی نہیں ہوتیں۔ ہم صرف وہ معلومات قبول کرتے ہیں جو ہمارے موجودہ عقائد کو مضبوط کرتی ہیں، اور ان معلومات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمارے عقائد کو چیلنج کرتی ہیں۔ اس رجحان کو confirmation bias کہا جاتا ہے، یعنی ہم اپنے عقائد کی تصدیق کے لیے معلومات تلاش کرتے ہیں، نہ کہ نیا علم حاصل کرنے کے لیے۔
کنفرمیشن بائس: عقائد کی تصدیق کا جنون
Confirmation Bias: The Obsession with Validating Our Beliefs
یہ حقیقت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم جتنے بھی فیصلے کرتے ہیں یا جتنی بھی آراء رکھتے ہیں، وہ سب ہمارے عقل مندانہ تجزیے کا نتیجہ ہیں۔ مگر، ایسا نہیں ہے۔ ہم جو کچھ بھی سوچتے ہیں، وہ زیادہ تر اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہمیں وہ معلومات ملتی ہیں جو ہماری موجودہ سوچ کو تقویت دیتی ہیں۔
دراصل، ہم نئے خیالات کے لیے جگہ بنانے کی بجائے، ان ہی خیالات کو مستحکم کرتے ہیں جو پہلے سے ہمارے ذہن میں ہوتے ہیں۔
کتابوں کی خریداری کا تجزیہ
Analyzing Book Purchases
2008 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ایمازون پر ہونے والی خریداریوں کا تجزیہ کیا گیا، اور یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ باراک اوباما کے بارے میں مثبت کتابیں خرید رہے تھے، وہ پہلے ہی ان کے حامی تھے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کا مقصد معلومات حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ اپنے موجودہ عقائد کو مزید مضبوط کرنا چاہتے تھے۔
آرٹیکلز کا مطالعہ: کسی کی تصدیق یا سیکھنا؟
Reading Articles: Confirming or Learning?
اسی طرح، ایک تحقیق میں یہ پتا چلا کہ لوگ وہ مضامین زیادہ وقت تک پڑھتے ہیں جو ان کی اپنی رائے سے ہم آہنگ ہوں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم نیا کچھ سیکھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے پہلے سے موجود خیالات کی تصدیق کرنے کے لیے پڑھتے ہیں۔
یادداشت میں کنفرمیشن بائس
Confirmation Bias in Memory
ہماری یادداشت بھی confirmation biasسے متاثر ہوتی ہے۔ ہم وہ واقعات یاد رکھتے ہیں جو ہمارے عقائد کی تصدیق کرتے ہیں اور انہیں فراموش کر دیتے ہیں جو ان عقائد کو چیلنج کرتے ہیں۔
جین کی کہانی: کنفرمیشن بائس کا ایک دلچسپ تجربہ
Gene's Story: A Fascinating Experiment on Confirmation Bias
ایک تجربہ میں دو گروپوں کو ایک ہی کہانی سنائی گئی جس میں ایک فرضی کردار "جین" کی زندگی کو بیان کیا گیا۔ اس کہانی میں جین بعض اوقات انٹروورٹڈ (تنہائی پسند) اور بعض اوقات ایکسٹروورٹڈ (ملنسار) نظر آتی ہے۔
چند دنوں بعد، دونوں گروپوں سے مختلف سوالات پوچھے گئے:
• ایک گروپ سے پوچھا گیا: کیا جین ایک اچھی لائبریرین بنے گی؟
• دوسرے گروپ سے پوچھا گیا: کیا جین ایک اچھی ریئل اسٹیٹ ایجنٹ بنے گی؟
پہلے گروپ نے جین کو انٹروورٹڈ یاد کیا اور کہا کہ وہ ایک بہترین لائبریرین بن سکتی ہے۔
دوسرے گروپ نے جین کو ایکسٹروورٹڈ یاد کیا اور کہا کہ وہ ایک بہترین ریئل اسٹیٹ ایجنٹ بن سکتی ہے۔
یہاں confirmation biasنے دونوں گروپوں کو صرف وہ پہلو یاد رکھنے پر مجبور کیا جو ان کے سوالات کے جواب سے ہم آہنگ تھا۔ ہر گروپ نے وہی معلومات یاد رکھی جو ان کی مخصوص رائے کی تصدیق کرتی تھی اور باقی تمام معلومات کو نظر انداز کر دیا۔
مزید گہرائی میں دیکھنا
Digging Deeper
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ان گروپوں سے پوچھا گیا کہ آیا جین دوسری نوکری کے لیے بھی مناسب ہو سکتی ہے، تو دونوں گروپوں نے اپنے پہلے کے عقائد پر اصرار کیا اور کہا کہ جین دوسری نوکری کے لیے مناسب نہیں تھی۔ اس تجربے نے یہ ثابت کیا کہ ہم ہمیشہ ان معلومات کو یاد رکھتے ہیں جو ہمارے عقائد کو تقویت دیتی ہیں، اور ہم ان حقائق یا رائے کو نظر انداز کرتے ہیں جو ہماری سوچ کے خلاف ہوں۔
ہماری سوچ کی حدود
The Limits of Our Thinking
یہ confirmation biasہمیں ایک بند گلی میں لے جاتا ہے جہاں ہم صرف وہی معلومات قبول کرتے ہیں جو ہمیں پہلے سے یقین ہیں۔ ہم نئی یا چیلنج کرنے والی معلومات کو نظر انداز کرتے ہیں، جو ہمارے ذہنوں میں موجود گمراہ کن تصورات کو درست کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
اس کا حل کیا ہے؟
اگر ہم اپنی زندگی میں زیادہ معروضی اور بہتر فیصلے کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے ذہنوں کو کھولنا ہوگا اور ہر معلومات کو بے رحمی سے جانچنا ہوگا۔ ہمیں اپنے عقائد کو چیلنج کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی تاکہ ہم حقیقت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
The Strategies We Use to Maintain Our Self-Confidence and Why They Can Mislead Us
ہم اپنی خود اعتمادی کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی محنت کرتے ہیں اور مختلف حکمت عملیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ خود اعتمادی ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے، کیونکہ اس کے بغیر نہ صرف ہمیں اپنے آپ پر اعتماد کرنے میں مشکل پیش آتی ہے، بلکہ دن بھر کے کاموں کو سر انجام دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہم اپنی خود اعتمادی کو ہر ممکن طریقے سے مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خود اعتمادی کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی
ہم خود اعتمادی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں کا سہارا لیتے ہیں، جن میں سے چند اہم حکمت عملیوں پر غور کرتے ہیں:
1. کامیاب ہونے کا سارا کریڈٹ اپنے آپ کو دینا اور ناکامی کا الزام باہر کی چیزوں پر ڈالنا
Taking Full Credit for Success and Blaming Failure on External Factors
ہم میں سے بیشتر لوگوں کا یہ رویہ ہوتا ہے کہ جب ہم کامیاب ہوتے ہیں تو سارا کریڈٹ اپنے آپ کو دیتے ہیں، مگر جب ناکام ہوتے ہیں تو اس کا الزام کسی بیرونی وجہ پر ڈال دیتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہم اس حکمت عملی کا استعمال مختلف حالات میں کرتے ہیں، چاہے وہ بورڈ گیمز ہوں یا فائنل امتحانات۔ اس سے ہماری خود اعتمادی برقرار رہتی ہے، کیونکہ ہم اپنی کامیابیوں کو اپنے صلاحیتوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور ناکامیوں کو غیر متوقع بیرونی وجوہات سے منسلک کرتے ہیں۔
2. دوسروں کی کامیابیاں اور ناکامیاں دیکھ کر اپنی قیمت کا تعین کرنا
Comparing Ourselves to Others to Determine Our Wort
ہم میں سے اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم دوسروں سے زیادہ کامیاب ہیں۔ یہ ایک اور حکمت عملی ہے جو ہم اپنی خود اعتمادی کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر شخص، جسے آپ جانتے ہیں، یہ سمجھتا ہے کہ وہ آپ سے زیادہ مقبول ہے اور آپ بھی یہی سوچتے ہیں۔ اسی طرح، ہم میں سے اکثر کا خیال ہوتا ہے کہ ہم اپنے کام میں دوسروں سے زیادہ اچھے ہیں، ہم اپنے دوستوں سے زیادہ اخلاقی طور پر صحیح ہیں، ہم اپنے ہم منصبوں سے زیادہ ذہین ہیں، اور اس فہرست میں اور بھی کئی باتیں شامل ہیں۔
3. Self-Handicapping:
ناکامی کے لیے پہلے سے بہانے تیار کرنا
Self-Handicapping: Creating Excuses for Potential Failure
یہ حکمت عملی ایک دلچسپ نفسیاتی طریقہ ہے جس میں ہم کسی ممکنہ ناکامی سے بچنے کے لیے خود کو پہلے سے ایسی صورتحال میں ڈال دیتے ہیں، جس کے باعث ناکامی کو جواز مل سکے۔ اس حکمت عملی کو self-handicapping کہا جاتا ہے، اور اس میں ہم اپنے آپ کو ناکامی کے لیے کسی نہ کسی وجہ سے تیار کر لیتے ہیں تاکہ جب ناکامی ہو، تو ہم اپنے آپ کو برا نہ محسوس کریں۔
ایک تحقیق میں، شرکاء کو ایک مشکل ٹیسٹ دیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ انہوں نے اسے مکمل طور پر درست حل کیا ہے، چاہے یہ سچ ہو یا نہ ہو۔ اس کے بعد انہیں دو آپشنز دیے گئے: ایک کارکردگی کو کم کرنے والی دوا اور ایک کارکردگی کو بڑھانے والی دوا۔ زیادہ تر لوگوں نے وہ دوا منتخب کی جس سے ان کی کارکردگی کم ہونے کا امکان تھا (یہ دوا دراصل ایک پلیسبو تھی)، کیونکہ وہ اپنی خود اعتمادی کو بچانے کے لیے پہلے سے ایسی صورتحال تیار کرنا چاہتے تھے جس سے اگر وہ ناکام ہوئے تو اس کی کوئی وجہ ہو۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو بچانے کے لیے خود کو نقصان پہنچانے والے حالات میں ڈال دیتے ہیں، تاکہ جب ناکامی ہو تو ہم اس کا الزام باہر کی کسی وجہ پر ڈال سکیں۔
خود اعتمادی کی حفاظتی حکمت عملیوں کا مجموعہ
The Mix of Protective Strategies for Self-Confidence
ہماری یہ حکمت عملی ہمیں ایک طرف تو اپنی خود اعتمادی کو قائم رکھنے میں مدد دیتی ہیں، مگر دوسری طرف یہ ہماری حقیقت کو جھٹلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ہم اپنے آپ کو اچھا دکھانے کے لیے ان حکمت عملیوں کا استعمال کرتے ہیں، جو ہمیں اپنی ناکامیوں سے بچاتی ہیں اور ہماری کامیابیوں کو زیادہ اہم بنا دیتی ہیں۔ لیکن یہ طریقے وقتاً فوقتاً ہمیں حقیقت سے دور کر سکتے ہیں اور ہمیں اپنی اصلی صلاحیتوں اور کمزوریوں کو نظر انداز کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
کیا اس کا حل ہے؟
Is There a Solution?
اگر ہم اپنے فیصلوں میں زیادہ معروضی بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں ان حکمت عملیوں کے بارے میں آگاہ ہونا ضروری ہے جو ہم اپنی خود اعتمادی کو بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ خود اعتمادی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ طریقے ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے، اور ہمیں کبھی کبھار اپنی ناکامیوں کو قبول کر کے ان سے سیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔



Comments
Post a Comment