Research: Why Nations Fail ?



ناکام قوموں پر لکھی گئی بہترین کتاب، کامیاب قوموں پر کی گئی نوبل انعام حاصل کرنے والی ریسرچ اور پاکستان


Lessons for Pakistan: A Book on Failed Nations and Nobel-Winning Economic Research


2024 کا نوبل انعام برائے Economics اس بار

Daron Acemoglu, Simon Johnson and James Robinso کو ملا اور ان کی ریسرچ کا موضوع  تھا

Importance of societal Institutions for a Country's Prosperity 


اس ریسرچ میں انہوں نے بتایا ہے کہ ملکوں کی ترقی یا ناکامی کا دارومدار ان کے اداروں (institutions) پر ہوتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق، وہ ممالک جو ترقی کرتے ہیں جو (inclusive institutions) کو فروغ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی اور سیاسی فیصلے ایسے ادارے کرتے ہیں جو شفافیت کے ساتھ کام کرتے ہیں اور تمام طبقوں کو نمائندگی دیتے ہیں۔


اس کے برعکس، وہ ممالک جہاں extractive institutions پائے جاتے ہیں، یعنی ایسے ادارے جو صرف اشرافیہ (elites) کے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں، وہاں عام عوام کو نہ تو مواقع میسر آتے ہیں اور نہ ہی ان کی حالت بہتر ہوتی ہے۔ یہ ادارے وسائل کا استحصال کرتے ہیں اور دولت اور طاقت کو چند افراد تک محدود رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں عدم مساوات اور غربت بڑھتی ہے۔


اس نظریے کو "Institutional Theory " کہا جاتا ہے، جو معاشیات کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب لائی ہے۔ اس تھیوری کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اداروں کی ساخت (institutional design) ملک کی معیشت، معاشرتی انصاف، اور ترقی کے راستے کا تعین کرتی ہے۔


پاکستان کے لیے اس تھیوری کی اہمیت


اب سوال یہ ہے کہ یہ تھیوری پاکستان جیسے ملک کے لیے کیوں اہم ہے؟ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں طاقت اور دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہیں۔ ہمارے ملک میں extractive institutions کی مثالیں ہر طرف ملتی ہیں۔ سیاست، معیشت، اور قانون کے ادارے زیادہ تر اشرافیہ  elites کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ عام عوام کو نہ تو ترقی کے مواقع میسر آتے ہیں اور نہ ہی ان کی آواز سنی جاتی ہے۔


پاکستان کے سیاسی اور معاشی بحران کی جڑیں بھی انہی extractive institutions میں پائی جاتی ہیں، جو چند طاقتور افراد اور خاندانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں جبکہ باقی ملک غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔


اب اگر ملک کے کرتا دھرتا اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں ہے تو ان کو   اداروں میں اصلاحات کرنی ہوں گی یعنی Institutional Reforms کرنی ہوں گی.سادہ الفاظ میں یہ کہ ہم اپنے سیاسی اور معاشی نظام میں عوامی شمولیت کو فروغ دیں اور اداروں کو اس قابل بنائیں کہ وہ سب کے لیے کام کریں، نہ کہ صرف چند افراد کے لیے۔


نوبل انعام حاصل کرنے والے ایکسپرٹس کی اس ریسرچ سے ہمارے لیے سیکھنے کے لیے چند اہم چیزیں بھی شیئر کردیتا ہوں. 


1. شفافیت اور احتساب Transparency and Accountability


پاکستان کے ادارے تب تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک ان میں شفافیت اور احتساب نہیں ہو گا۔ ہمیں ایسے ادارے بنانے ہوں گے جو عوام کے سامنے جوابدہ ہوں اور جو معاشرتی انصاف کو فروغ دیں۔


2. عوامی شمولیت Public Participation

 پاکستان کو ایسے ادارے بنانے کی ضرورت ہے جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور ان کو معاشی اور سیاسی عمل میں شامل کریں۔


3. اشرافیہ کے تسلط کا خاتمہ End of Elite Domination


اگر پاکستان ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے اس تسلط کو ختم کرنا ہو گا جو اشرافیہ نے اداروں پر قائم کر رکھا ہے۔


بات صرف نوبل پرائز جیتنے والے ایکسپرٹس تک محدود نہیں بلکہ مشہور کتاب  "Why Nations Fail" (قومیں کیوں ناکام ہوتی ہیں) بھی ناکام قوموں کے بارے میں یہی کہتی ہے. اس کتاب میں دارون اسیموگلو اور جیمز رابنسن نے بڑی تفصیل سے یہ بیان کیا ہے کہ قوموں کی ترقی یا ناکامی کا تعلق ان کے اداروں سے ہے۔


کتاب کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ قوموں کی کامیابی یا ناکامی ان کے اداروں پر منحصر ہے۔ Inclusive institutions ایسے ادارے ہوتے ہیں جو سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرتے ہیں اور معاشرتی اور معاشی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ دوسری طرف، extractive institutions وہ ادارے ہیں جو طاقتور طبقوں کے مفاد کے لیے بنائے جاتے ہیں اور وسائل کو استحصال کرتے ہیں۔


کتاب"Why Nations Fail" میں مصنفین نے دنیا بھر کی کئی قوموں کی مثالیں دی ہیں، جن میں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی تقسیم، مصر اور لاطینی امریکہ کی ناکامی، اور امریکہ اور یورپ کی ترقی کا تجزیہ شامل ہے۔ انہوں نے یہ بات واضح کی ہے کہ  جہاں inclusive institutions موجود ہیں، وہاں ترقی ہوتی ہے، اور جہاں extractive institutions پائے جاتے ہیں، وہاں معاشی اور سیاسی بحران پیدا ہوتے ہیں۔


پاکستان بھی اسی صورتحال کا شکار ہے، جہاں extractive institutions نے عوام کی فلاح و بہبود کو نظرانداز کر رکھا ہے۔ سیاست میں عام عوام کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے، اور معیشت کا زیادہ تر حصہ اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے۔

کتاب کی سمری پھر کبھی شیئر کروں گا. فی الحال بات کرتے ہیں کہ پاکستان کے لیے "Why Nations Fail" اور نوبل انعام جیتنے والے ماہرین کی ریسرچ سے سیکھنے کو کیا ہے.


1. ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت Need For Institutional Reforms : ہمیں اپنے اداروں میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عوام کے لیے کام کریں، نہ کہ صرف اشرافیہ کے لیے۔


2. عوامی شمولیت Public Participation : ہمیں عوام کو سیاسی اور معاشی عمل میں شامل کرنا ہوگا تاکہ سب کو یکساں مواقع مل سکیں۔


3. شفافیت اور انصاف Transparency And Accountability  شفاف اور منصفانہ ادارے ہی قوم کی ترقی کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں.


اب اگر اس سب لے نعد پاکستانی معیشت کا جائزہ لیں تو آپکو ہمارے مسائل کی وجہ بھی سمجھ آجائے گی اور حل بھی سمجھ آجائیں گے.

پاکستانی معیشت یعنی اشرافیہ کی معیشت Economy of Elites کی خصوصیات


1. غیر منصفانہ تقسیم: پاکستان میں دولت کی تقسیم غیر منصفانہ ہے۔ ایک چھوٹے سے طبقے کے پاس بڑی تعداد میں دولت اور وسائل ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس غیر مساوات Inequality کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت کی پالیسیاں ہمیشہ اس طبقے کے مفاد میں ہوتی ہیں، جو کہ عوام کے مفاد کے خلاف ہیں۔


2. اداروں پر کنٹرول: ملک کے سیاسی، اقتصادی، اور عدالتی ادارے اشرافیہ کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ یہ ادارے عام عوام کی شمولیت کو محدود کرتے ہیں، جس کی وجہ سے عوامی مفاد کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔ ان اداروں کی شفافیت اور احتساب کا فقدان ہے، جو ان کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔


3. احتساب کا فقدان Lack of Accountability : پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی بدعنوانی ایک عام مسئلہ ہے۔ بدعنوانی کی وجہ سے عوامی وسائل کا استحصال ہوتا ہے، اور یہ افراد کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ احتساب کے نظام کا فقدان بدعنوانی کے فروغ کا باعث بنتا ہے، جس کی وجہ سے اشرافیہ کو کسی قسم کی سزا کا خوف نہیں رہتا۔


یہ تحقیق اور کتاب دونوں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ قوم کی ترقی کا دارومدار اداروں کی شفافیت، احتساب، اور عوامی شمولیت پر ہے۔ جب تک ہم اپنے اداروں کو inclusive نہیں بنائیں گے اور اشرافیہ کے تسلط کو ختم نہیں کریں گے، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔


پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں اشرافیہ کی معیشت غالب ہے اور ادارے عام عوام کے مفادات کی بجائے طاقتور طبقوں کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں، ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ نوبل انعام لینے والی تحقیق اور "Why Nations Fail" کی کتاب کے مطابق اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اداروں کی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔اب ہمیں کیا کرنا ہوگا اس کے لیے اپے محدود علم کی بنیاد پر بتا دیتا ہوں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے. 


1. Institutional Reforms

: جیسے کہ اسیموگلو اور رابنسن نے وضاحت کی ہے، ضروری ہے کہ پاکستان اپنے اداروں کو عوامی شمولیت کے مطابق ڈھالے۔ اداروں کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والا بنایا جائے تاکہ وہ صرف اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت نہ کریں۔


2. تعلیم پر توجہ: تعلیم کی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ ہمیں ایسے تعلیمی ادارے بنانا ہوں گے جو عوامی مفاد کے لیے کام کریں اور طلبا کو عملی مہارتیں سکھائیں تاکہ وہ معاشی میدان میں کامیاب ہو سکیں۔


3. شفافیت اور احتساب: حکومت کے ہر ادارے میں شفافیت اور احتساب کا نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ عوام کو یقین ہو کہ ان کے وسائل کا صحیح استعمال ہو رہا ہے۔ یہ عوام کے اعتماد کو بڑھانے اور بدعنوانی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔


4. عوام کی شمولیت: عوامی شمولیت کو بڑھانے کے لیے حکومت کو عوام کی رائے کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ عوامی فورمز، مشاورتی کمیٹیاں، اور عام انتخابات میں شمولیت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ عوام کو محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔


5. اقتصادی مواقع کی فراہمی: نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو اقتصادی پالیسیوں میں اصلاحات کرنی ہوں گی تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور عوام کی معیشت میں شراکت داری کو بڑھایا جا سکے۔


سادہ ترین الفاظ میں یہ کہ ترقی کا دارومدار اداروں کی مضبوطی، شفافیت، اور عوامی شمولیت پر ہے۔ پاکستان کو ان نکات پر عمل کرنا ہوگا تاکہ اشرافیہ کی معیشت کی بنیادوں کو کمزور کیا جا سکے اور عوام کی فلاح و بہبود کو فروغ دیا جا سکے۔ اگر ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور اپنے اداروں کی اصلاحات کے لیے سنجیدگی سے کام کرتے ہیں، تو پاکستان کی تقدیر بدلنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔


یہی نہیں، بلکہ ہمیں اپنی معاشرتی فکر اور اخلاقی ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھنا ہوگا تاکہ ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر سکیں جہاں ہر فرد کو مساوی مواقع ملیں اور ترقی کی راہیں کھلیں۔ اگر ہم اپنی معیشت کو اشرافیہ کے مفادات سے نکال کر عوام کے مفادات کی طرف موڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستان کی ترقی کا ایک نیا دور شروع کر سکتا ہے۔


پاکستان کے مستقبل کی بنیاد عوامی اداروں کی تشکیل، شفافیت، احتساب، اور عوامی شمولیت پر ہے۔ اگر ہم مل کر ان اصلاحات کی طرف بڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو سکیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف ہمیں اقتصادی ترقی کی طرف لے جائے گی بلکہ ایک خوشحال، باوقار، اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔


اگر آپ کو یہ پوسٹ پسند آئی اور کچھ سیکھنے کو ملا تو اسے دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ کسی اور کو بھی سیکھنے کا موقع ملے.

Your advices & critiques will be warmly welcomed.

Reach us !

sahabali.okz@gmail.com

Comments