علم اور محبت! Bertrand Russell
علم اور محبت دونوں بے انتہا ہیں، ان دونوں کی کوئی حد مقرر نہیں ہے - اس لیے کوئی زندگی کتنی ہی اچھی ہوجائے اس میں بہتری کا امکان موجود رہتا ہے - نہ تو علم کے بغیر محبت اور نہ ہی محبت کے بغیر علم اچھی زندگی کا سبب بن سکتے ہیں - قرون وسطیٰ میں جب کسی ملک میں کوئی مہلک وبا پھیلتی تو بزرگ لوگوں کو عبادت گاہوں میں جمع کر کے خدا سے نجات کی دعائیں مانگنے کو کہتے تھے، نتیجہ الٹ نکلتا تھا، یہ وبائیں رحم کے متلاشی ہجوموں میں غیر معمولی سرعت کے ساتھ پھیل جاتیں - یہ صورت حال علم کے بغیر محبت کی مثال ہے - دوسری طرف حالیہ جنگیں محبت کے بغیر علم کا ماحصل ہیں - دونوں ہی صورتوں میں نتیجہ وسیع پیمانے پر اموات، تباہی اور بربادی کی صورت میں نکلتا ہے -
محبت اور علم اگرچہ دونوں ضروری ہیں لیکن ایک لحاظ سے محبت کو اولین درجہ حاصل ہے، کیونکہ وہ ذہین لوگوں کو علم حاصل کرنے کی جستجو پر آمادہ کرتی ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ اپنے محبوب لوگوں کی کس طرح سے مدد کی جاسکتی ہے - لیکن اگر لوگ ذہانت سے محروم ہوں تو وہ سنی سنائی باتوں پر ایمان لاکر مطمئین ہوجاتے ہیں، اس طرح وہ خواہش کے باوجود فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں -
برطانوی فلسفی جو مغربی جنگیں دیکھنے کے بعد محبت ہمدردی مساوات آزادی کے واعظ بنے؛
برٹرینڈ رسل



Comments
Post a Comment